جعفر حسن (لاہور) پاکستان کی تباہ حال اکانومی بحال کرنے کے لٸے ای کامرس اور آٸی ٹی ایجوکیشن کی اھمیت

پاکستان کی برباد اکانومی کو ری بلڈ کرنے اور اسے ٹاپ 10 میں لانے کے لٸے ایک قابلِ قدر منصوبہ ای کامرس اور آٸی ٹی کی وسیع پیمانے پر سستی تعلیم اور اس کا درست اور بروقت استعمال ھے۔
پاکستان کا ٹوٹل قرضہ 115 ارب ڈالر صرف پانچ سال میں اتر سکتا ھے
پاکستان کی مسلح فواج کی طرح اس کی اکانومی کیسے زبردست طاقتور ھوسکتی ھے۔
کرپشن کے خلاف کارواٸیاں عدالتی رویے کی وجہ سے تقریباً ناکام نظر آرھی ھیں۔ اور اس سے وابستہ توقعات بھی اب ختم ھوتی نظر آرھی ھیں۔
ایک حل اور ھے
1۔ ایمازون کو پاکستان میں اپنا سیٹ اپ لگانے کے لٸے رضامند کرنے کے لٸے درکار وزیراعظم کی خصوصی کاوش کی ضرورت ھے۔

2۔ ای کامرس اور آٸی ٹی ایجوکیشن کو عام کرنے کے لٸے اور آٸی ٹی ایکسپورٹ اور ای کامرس ایکسپورٹ ٹریڈ پر حکومت کی غیر معمولی توجہ درکار ھے۔

ای کامرس اور آٸی ٹی ایجوکیشن کو پورے پاکستان میں ھر لیول پر، ھر ممکن حد تک ٹوٹل فری کردیا جاۓ۔ اگر فری کرنا فی الحال ممکن نہ ھو تو اس کو ھر ممکن حد تک سستا کردیا جاٸے تاکہ طلبا کا ایک بڑا رحجان اس سمت میں سیٹ کیا جاسکے۔

پاکستان کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق پچیس کروڑ سے زاٸد ھوچکی ھے۔ اور اگر ڈھاٸی فیصد سالانہ اضافہ ھو رھا ھے تو اس کا مطلب ھے کہ ساٹھ سے ستر لاکھ بچے ھر سال پیدا ھو رھے ھیں۔ کیا ھم اتنی بڑی افرادی قوت میں سے صرف ایک لاکھ افراد کو ھر سال ای کامرس اور آٸی ٹی کی تعلیم دے سکتے ھیں؟
اس کے لٸے اگلے بیس سال کے لٸے ٹارگٹ مقرر کیا جاۓ کہ سالانہ ایک لاکھ ایسے آٸی ٹی ماسٹر ڈگری ھولڈر پروگرامرز اور ای کامرس کے ماھرین تیار کرنے ھیں جو ای کامرس اور آٸی ٹی ایکسپورٹ کے لٸیے اپنے اپنے ذاتی سوفٹ وٸیر ھاٶس اور ای ٹریڈ ھاٶس بنالیں اور ان میں دس سے پندرہ جونٸیر پروگرامرز اور ای کامرس کے پڑھے لکھے لوگوں کو جاب بھی دیں۔ ان قابل آٸ ٹی ماھرین اور ای کامرس سپیشلسٹ لوگوں کو پہلے سال کے سٹارٹ کے لٸے ایک ایک ملین کا سستا ترین قرضہ ان کی ڈگری اور آٸی ڈی کارڈ کی ضمانت پر دے دیا جاٸے تاکہ وہ اپنے سیٹ اپ لگا سکیں۔ یہ تمام ای سیٹ اپ نٸی نوجوان نسل کے لٸے تعلیم، ٹریننگ اور روزگار گا عملی ذریعہ بن جاٸیں گے۔ ان میں ھرکام کرنے والا مہارت اور تجربہ حاصل ھونے کےبعد اپنے ٹارگٹس پورے کرکے ماھانہ ایک لاکھ روپے تک کمانے کے قابل ھوجاٸے گا۔ جو معاشرے میں ایک خوشحالی کا خاموش انقلاب لے آٸے گا۔

اس طرح سے ھم ایک زبردست SSG کمانڈو اکنامک آرمی تیار کرنے میں کامیاب ھوجاٸیں گے۔ جو معاشی محاذ پر بےجگری سے لڑجاٸے گی۔ اور معاشی مشکلات کو کسی دشمن کی طرح ختم کرڈالے گی۔

ھر سوفٹ وٸیر ھاٶس اور ایمازون پر ٹریڈ کرنے والے ٹریڈ ھاٶس کا سالانہ ایکسپورٹ ٹارگٹ کم از کم ایک لاکھ ڈالر ھو۔ جو ان کو پاکستان میں لانے ھوں۔ اس ٹارگٹکے حاصل ھوجانے سے پاکستان کے تمام قرضے 5 سال کے اندر پے بیک ھوسکیں گے۔ اور معاشی طور پر پاکستان آزاد ھوجاٸے گا۔

اس کے لٸے باقاعدہ منصوبہ یہ ھے

آٸی ٹی ایجوکیشن اور ای کامرس کی باقاعدہ تعلیم کے لٸے حکومتی سطح پر ایچ ای سی سے منظور شدہ 300 سے زاٸد یونیورسٹیز میں صبح شام کی دو شفٹس لگاٸی جاٸیں

ھر یونیورسٹی میں سال کے تین سمیسٹر ھوں
ھر ایک شفٹ میں اوسطاً 70 طالب علم بھی ھوں تو ایک لاکھ سے زیادہ پروگرامرز مل جاٸیں گے
وزارت خزانہ ان آٸی ٹی ماھرین کو اپنے سافٹ وٸیر ھاٶس ڈیویلپ کرنے کے لٸے بلاسود قرضے دے تاکہ یہ پراٸیویٹ سیکٹر میں ھر سال دس سے پندرہ لاکھ نٸی جابز بھی پیدا کرسکیں۔
اس منصوبے سے حاصل ھو سکنے والے صرف پہلے سال کا ریوینیو ھی کیلکولیٹ کرلیں جس میں ھر سال اتنا ھی مزید اضافہ متوقع ھوگا۔
100,000 سافٹ وٸیر ھاٶس
x
100,000 ڈالر ایکسپوٹ ٹارگٹ فی کس
= 10,000,000,000
یعنی کہ
پہلے ھی سال دس ارب ڈالر
دوسرے سال بیس ارب ڈالر
تیسرے سال تیس ارب ڈالر
چوتھے سال چالیس ارب ڈالر
ان کا ٹوٹل کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
100 ارب ڈالر
پانچویں سال پھر پچاس ارب ڈالر
ھر گزرتے سال کے ساتھ سٹوڈنٹس کے ھر نٸے بیچ کے پاس آٶٹ ھونے کے بعد ان کے ٹارگٹ کے دس ارب ڈالر مزید جمع کرلیں۔ ھر گزرتے سال کے تجربات اور بڑھتی مہارت کے ساتھ ان کی پرفارمنس اس سے کہیں زیادہ ھوتی چلی جاٸے گی۔
مانگے سے تو ایک ارب ڈالر بھی کوٸی نھیں دیتا۔ یہ تو پھر بھی اپنے ھی کماۓ ھوۓ ھوں گے جو واپس بھی نہیں کرنے ھوں گے۔

چھٹے سال ساٹھ 60 ارب ڈالر
ساتویں سال ستر 70 ارب ڈالر
آٹھویں سال اسی 80 ارب ڈالر
نویں سال نوے 90 ارب ڈالر
دسویں سال سو 100 ارب ڈالر

یاد رھے کہ انڈیا کی آٸی ٹی ایکسپورٹس 150 ارب ڈالر سے زاٸد ھیں اور پاکستان کے پاس اس سے بھی زیادہ ہدف کے لٸے جگہ دستیاب ھے۔ جاپان اور ھانگ کانگ میں کچھ بھی پیدا نہیں ھوتا۔ تیل اور گیس کے ذخاٸر بھی نہیں ھیں۔ ھیروں اور سونے کی کانیں بھی نہیں ھیں مگر دونوں ممالک ایک ٹریلین ڈالر ایکسپورٹ کے ھدف کو کراس کرنے کی طرف مسلسل بڑھ رھے ھیں۔ انڈیا نے 2019 میں 350 ارب ڈالر ایکسپورٹ کا ھدف حاصل کرلیا تھا۔ اب اس نے پہلے 400 ارب ڈالر اور اگلے مرحلے میں 500 ارب ڈالر ایکسپورٹ کے ھدف بر نظریں جما لیں ھیں۔ جب کہ ھم تقریباً 20 سے 25 ارب ڈالر کی بہت معمولی حجم کی ایکسپورٹس کے ساتھ اس منظر نامے میں بلکل ان فٹ ھیں۔ ھمیں بھی بہت آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ھے۔

ٹارگٹس ھمیشہ لگتے تو مشکل ھیں لیکن وہ ایک سمت متعین کردیتے ھیں۔ کبھی آپ مقررہ وقت سے بھی پہلے ان کو حاصل کرنے میں کامیاب ھوجاتے ھیں اور کبھی مقررہ وقت تک 80 سے 90 فیصد تک کامیاب ھو پاتے ھیں۔ لیکن آگے بڑھنے کا سفر جاری رھتا ھے۔
اب قوم کی درست معاشی سمت اور منزل کا یہ شعور روشنی کی طرح پھیلانا آپ کا کام ھے
اس شعور کو دوسروں تک پہنچاٸیں۔ ای کامرس اور آٸی ٹی کی تعلیم کی اھمیت سب کو بتاٸیں اور پاکستان کو اقتصادی طور پرطاقتور بنانے میں حصہ ڈالیں تاکہ پاکستان بھی ٹاپ 10 اکانومیز کی لسٹ میں شامل ھوسکے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں