کریڈٹ:سکرپٹ‌ سیبی کاظمی یو ٹیوب
، نواز شریف واپس آنے کی تیاری ٹکٹ تک بک کرواے جا رہے تھے، اچانک گیم الٹ گیی، ہوا کیا،کس طرح کپتان نے سیاست کھیلی ساری تفصیل بتاتا ہوں، نادرا اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے سابق چیف جسٹس بلوچستان کے حلف نامے کی دھجیاں اڑا دیں اور اس کے ساتھ ساتھ جنگ جیو نیوز کو شوکاز نوٹس جاری کیا انصار عباسی صاحب کو بھری عدالت میں ٹھیک ٹھاک قسم کا رگڑا لگایا انہیں کہا گیا کہ آپ نیو سٹی گیشن جنرلسٹ کہلواتے ہیں کیا یہ تفتیش ہے آپ کی

اس سے پہلے انیس سو اسی کی دہائی میں ایک آنٹی شمیم بہت مشہور ہوئی تھی جنہوں نے اس وقت کے سیاستدانوں کے بھروسے پر دے فا ش کیے تھے ان کے بہت سے راز کھولے تھے بچوں کے موبائل اور کیمرہ موجود نہیں تھا اس آنٹی شمیم کی آج بہت ساری ویڈیوز ہوتی آج کا پروگرام میرا رانا شمیم سابق جج گلگت بلتستان ان پر ہے رانا صاحب نے جو بیان حلفی جمع کروایا اتفاق دیکھیں اسی رائٹنگ فونٹ کیلبری میں ہے جس میں مریم صفدر صاحبہ کی غلط میں وصیحت پیش کی گئی تھی رانا شمیم صاحب نے اس نوٹری پبلک لندن سے اسے تصدیق کروائیں جس سے میاں نواز شریف صاحب کے بیماری کے سرٹیفکیٹ تصدیق ہوتے رہے رانا صاحب نے جس ڈاک کے ذریعے یہ جو آیا یہ وہی ڈاک کا نظام شریف خاندان استعمال کرتا رہا رانا صاحب نے جیواورجنگ کو استعمال کیا اور ماضی میں شریف خاندان کو مشکلات کا سامنا ہوا جیواورجنگ نے اپنا کندھا دیا یہ میں ایک نہیں ایسی آپ کو نو مثالیں پیش لیکن اس وقت نہیں کیونکہ بات میری تھوڑی آج لمبی ہے جج صاحب نے سب سے اہم سوال پوچھا کہ ایک چیف جسٹس جو کہ گلگت بلتستان کا عدالت کا سب سے بڑا چیف جامنی ہوتا ہوا ایک جرم دیکھ کر اگر چپ ہوتا ہے تو کیا اسے چیف جسٹس رہنے کا حق ہے اس کے بعد وہ تین سال تک خاموش رہتا ہے اس کی وجہ کیا ہے کہ اچانک وہ پراسرار انداز میں ایک حلف نامہ دیتا ہے کہ نواز شریف اور مریم غضب قصور ہیں اور اسے ملک کی سب سے بڑی اخبار اپنے فرنٹ صفحے پر لگا دیتی ہے عامر غوری جو اس کے ایڈیٹر ہے انہیں بھی جج صاحب نے اچھا خاصا کیا یار آپ کیا پڑھتے نہیں بلا دیکھے خبریں لگا دیتے ہیں جٹ صاحب کو یہ بات شاید یاد نہیں رہی کہ ماضی میں نون لیگ نون لیگ سیٹنگ جس سے بیان دل والے ہیں اور ان سے ان کی ٹیپ ریکارڈ پر موجود ہے جسٹس قیوم سرفہرست ہے شہباز شریف صاحب کی باقاعدہ طور پر اس وقت پیپلز پارٹی کے خلاف کیسز ریکارڈ ٹیپ ریکارڈ موجود ہیں یہ رانا شمیم صاحب تو تین سال پہلے ریٹائر ہو چکے ہیں اب سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رانا شمیم صاحب کی نواز صاحبہ کے پاس کوئی ویڈیو ہے جس کی وجہ سے یہ اعترافی بیان دیے گئے یا مسلم لیگ نون کے کیے گئے وہ احسانات رہنے والے ساہیوال کے ان کی کی زندگی کی بڑی پوسٹنگ سندھ اور سندھ سے براہ راست گلگت بلتستان کے چیف جسٹس یہ وہ سوالیہ نشان عدلیہ کو اٹھانا چاہیے کون لوگ ہیں جو اس طرح اس پورے عمل سے گزر کر اتنے بڑے عہدے تک پہنچ جاتے ہیں ماضی میں جنرل ضیاء بٹ میاں صاحب کے کئے گئے احسانات بہت سے ایسے بیوروکریٹس پر اس پر موجود ہیں اچھا یہ تو میں نے آپ کو آج کی عدالت کا واقعہ بتا دیا
اب آپ کو اصل کھیل کیا ہو رہا ہے وہ بتاتا ہوں، یہ بہت محنت سے اکھٹا کیا گیا مواد ہے زرا غور سے سنیں اور اسے شیر ضڑور کریں
نوقز شریف پاکستان واہس آنے کو تیار ہیں لیکن اکی طرف سے ایک شرط عاہد کر دی گی ہے،اب اس شرط پر کام شروع ہو چکا ہے
عمران خان کی پوزیشن کیا ہے اس وقت وہ کیا کر سکتے ہیں
سب سے پہلے یہ یاد رکھیں کہ سارے معاملات ٹھیک جا رہے تھے لیکن پھر جب امریکہ کو آڈے دینے کی بات ہوی تو اس میں ایک پیج پر سے راستے الگ ہونا شروع ہو گیے، امریکہ ہر صورت میں اپنی ٹریلین ڈالرز کی انویسٹمنٹ جو افغانستان میں کی گی تھی اس دیکھنا چاہتا ہے،چین پر نظر رکھنا چاہتا ہے کسی صورت میں اپنا بنایا ہوا ورلڈ آرڈر ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتا اس خطے میں۔اس کی موجودگی اس کے لیے آکسیجن کی طرح ہے،جبکہ یہاں یہ صورتحال ہے کہ انہیں فضا میں سے بھی جانے کے لیے اجازت مانگنا۔پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ 3ماہ ہو گیے اور باہیڈن نے ہر ایرے غیرے کو فون کیے لیکن عمران خان کو نہیں، اب اسٹیبلیشمنٹ یہی چاہتی ہے کہ کسی طرح امریکہ سے حالات بہتر ہو جاہیں اس وقت امریکہ کو سب منظور ہے سواے عمران خان کے، نواز شریف ہوتے تو شمسی اہیر بیس بھی امریکہ کو مل۔جاتا پاکستان کو دنیا بھر کا پریشر بھی نہ سننا پڑتا ڈالر کو بھی 130 سے اوپر نہ جانے دیا جاتا کیونکہ امریکہ مدد کرتا اور سب اچھ اکی رپورٹ ہوتی، اندرون ملک میں مل۔مالککان چینی آٹے کی رسد بھی نہ روکتے اور یوں یہ خوراک کا بحران نہ پیدا ہوتا
ایک واقعہ آپ کو سنا دیتا ہوں بینظیر بھٹو حکومت میں آہیں تو اشیا خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گیں جب انہوں نے ساری رپورٹ مانگی تو پتہ چلا کہ پنجاب میں شوگر،آٹا ملیں تو ساری ن لیگ کے قریبی لوگوں یا ان کی اپنی ملکیت ہیں وہ جب چاہیں مصنوری قلت پیدا کر کے حکومت کو مہنگای کا تحفہ دے سکتے ہیں اور باقی کسر میڈیا میں لگا ان کا پیسا ، عدلیہ میں ان کے دوست اور اسٹیبلشمنٹ جس کی یہ پیداوار ہیں وہ مل کر انہیں ناکام کر سکتے ہیں۔۔بیبی نے وزیر خوراک سے اسوقت کے حل۔پوچھا تو اا نے عجیب حل بتایا ، وہ کہنے لگا اہمیں سندھ میں یہی کرنا چاہیے اس سے ہم ایک صوبے ہمیشہ کے لیے اپنی حکومت قاہم کر سکتے ہیںہمیں پنجاب کو بھول جانا چاہیے لیکن بی بی نے مزاحمت کی اور مہنگای اور پھر ان کے معاملات سے حکومت فارغ ہو گی۔۔پھر آصف زرداری کو یہ بات سمجھ آ گی اور انہوں نے سندھ میں نہ ختم۔ہونے والی حکومت بزریعہ شوگر مل،آٹا اپنا بنا لیا۔۔۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں تمام خوراک یعنی آٹا چینی پر ن لیگ جبکہ سندھ میں مکمل طور پر پپلز پارٹی قابض ہے یہ جب چاہیں چینی آٹا مہنگا کر سکتے ہیں،غاہب کر سکتے ہیںاور قلت پیدا کر سکتے ہیں
عمران خان کی پارٹی میں جو ایسے لوگ تھے یعنی جہانگیر ترین گروپ جو کہ انہیں ٹکر دے سکتا تھا انہیں خان صاحب نے خود ہی قانون کی گرفت میں لیا کیونکہ خان صاحب ڈیح آدمی تھے لیکن اس سے ان کی پارٹی کے بڑے بڑے انویسٹرز ، سرمایہ دار، مل مالکان ناراض ہو گیے کیونکہ انہیں فاہدہ نہیں ہوا جس کی وہ امید کر رہے تھے انہوں نے بھی درپردہ اپوزیشن سے ایکا کر لیا اور یوں خان صاحب کی پنجاب میں۔طاقت کمزور ہو گی،
عثمان بزدار ایکا عام آدمی جسکی نہ ملیں نہ فیکڑریاں نہ وہ طاقت جو ان امیر کبیر تاجران کے پاس،پھر بیوروکریسی بھی اتنی مضبوط کہ وہ ابھی تک شہباز شریف کی مانتے ہیں،اسی لیے 7 سیکرٹری بدلے،6 آی جی بدلے لیکن حل نہیں ہو سکا۔۔بزدار کمزور نہیں لیکن سرمایہ دار نہیں،تاجر نہیںاس کے پاس وہ پیسہ نہیں کہ وہ بڑے لوگ اس سے ڈرتے سواے عمران خان کے اس کے ااتھ کوی ہے ہی نہیں
عمران خان نے ٹھیک کام۔کرتے ہوے بیرونی دنیا میں اگر امریکہ اور اس کے حواریوں کو عزت و غیرت کے نام پر ناراض کیا تو اپنوں کو کرپشن سے روکا گرفتاریاں کیں کیسز کیے اپنے لوگوں پر جنہوں نے مدد کی لیکن چونکہ وہ کرپٹ تھے اس لیے وہ اپنے بھی ناراض ہو گیے
عوام۔کو ناراض ہونا ہی تھا جب مہنگای ہو گی تو خقن جو مرضی کرے لوگ خوش تو نہیں ہو سکتے،لیکن ملک میں سپلای کرنے والے یہ لوگ ہیں۔ان کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں پنجاب اور سندھ میں کہ یہ جب چاہیں قیمت کو جہاں لے جاہیں،حکومت کچھ نہیں۔کر سکتی، عدلیہ مکمل طور پر حکومت کواسٹے آرڈر پر ہاتھ پاوں اور منہ باندھ دیتی ہے،سالہا سال سے اسٹے آرڈر پر معاملات چل رہیں ہیں
یہ عمران خان کی ہمت ہے کہ یہ اتنے بڑے مافیا کو توڑا اور یہاں تک پہنچا ورنہ یہ ناممکن کام تھا کرنا اور یہ سب عوام کی مدد سے ہوا۔اسٹیبلشمنٹ بھی مجبوری میں ساتھ دیتی رہی کہ عوام اتنی بڑی تعداد میں تھی لیکنخان حکومت کو 20-25 سیٹوں سے محروم کیا تا کہ ہنگ پارلیمنٹ اتھادوں پر ٹکی رہے اور جب چاہیں انہیں بلیک میل کر سکیں، اور یہی ہوتا رہا پے اب تک
ان کی پارٹی میں آے ہوے فصلی بٹیرے ابھی سے پر رول رہیں ہیں
نواز شریف نے شرط عاہد کی میری نااہلہ،مریم۔کی نااہلی ختم کریں اگلی فلاہٹ میں واپس۔۔
اباسپر کام شروع ہو چکا اہے،رانا شمیم جیسے جج کو سامنے لایا گیا،ثاقب نثار کے فیصلوں کو ہای کورٹ میں اٹھایا جاے گا،سپریم۔کورٹ سے ان فیصلوں کو توثیق دی جاے گی اور اس. کے بعد نواز شریف اہل ہو کر واپس آہیں گیں اور پھر امریکہ سمیت اندرونی بیرونی حالات کو ان تمام لوگوں کی مرضی پر چلایا جاے گا،عوامکو فورا سستی چینی آٹا ملے گا اور عوام۔نواز شریف کو مسیحا مان کر اہناسب کچھ مان لیں گیں اور عمران خان سمیت ہر وہ شخص جو پاکستان کو بدلنے کی نات کرتا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاے گا
اس میں میڈیا کے لوگ،عدلیہ،ان کی پارٹی میں کالی بھیڑیں،فصلی بٹیرے سب مل۔کر تعاون کریں گیں
کپتان کے خلاف محاز کھل چکا ہے،سب اس کے خلاف ایک پیج پر ہیںاب عمران خان کیا کر سکتے ہیں
اگر اسمبلیاں توڑین تو یہ نقصان ہو گا،مہنگای سے عوام ان کو ووٹ نہیں دے گی اور یہ اپوزیشن بھی نہیں۔کر سکیں گیں
انہیں حکومت کو بچانا ہےاب لیڈرشپ کا مظاہرہ ہے،بڑے فیصلے کرنا ہیں۔آی ایم ایف تو مزید مشکلات پیدا کرے گا
خان صاحب کو اب سب سے پہلے عوام کو اپنے ساتھ لینا ہے،مہنگای ختم۔کرنا ہے،بڑ اقڑضہ پکڑیں اور اس سے اشیا کی قلت ختم کریں جہانگیر ترین جیسے لوگوں۔کو واپا لاہیں،پنجاب طاقتور کے حوالے کریں
وقتی طور پر چار قدم۔پیچھے ہٹ جاہیں،میڈیا میں پیسہ پھینکیں تا کہ یہ منفی فضا کم ہو،حامد میر سمیت ان دس اینکرز کو اپنی ساہڈ پر لاہیں
اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کو فورا ٹھیک کریں، بڑا قرضہ پکڑ کر فورا ملک میں مہنگای ختم کریں
جتنا پیسہ اسوقت اوورسیز ریمٹنسسز سے آ رہا ہے وہ سارا عوام پر لگا دیں اگلی نسلوں کی سوچ کو چھوڑ کر کل کی فکر کو زہن سے نکال کر صرف آج پر دھیان دیں اپنے دو سال میں عوام کو ایسا ریلیف دیں کہ یہ جو 30فیصد بددل ہوے وہ لوگ واپس آہیں جو ان کے جینیون لوگ ہیں انہیں قمہ نان بریانی کی ضرورت نہیں ہے بڑے منصوبے ترک کر دیں اور چھوٹے چھوٹے منصوبے شروع کر دیں ،عدلیہ میں ججز اپنی مرضی کے لاہیں ملک کو اب لیڈر کی طرح نہیں سیاست دانکی طرح ایک دھندے کی طرح چلاہیں ورنہاس عوام کی یاداشت بہت کمزور ہے،یہ آپ کے ساتھ ہر تبدیلی کے نشان کو ختم کریں گیں
آپ ملک معراج خالد جو کہ کرایے کے گھر اور ٹیکسی پر سفر کرنے گولڈ فلیک کے سگریٹ پینے والا وزیراعظم نہیں اور نہ ہی زولفقار علی بھٹو بننا ہے آپ نے تبدیلی کو کچھ دیر بھول کر اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے اس عوام اور معاشرے کے مطابق پھر دیکھین اگلے ٹرم میں آپ وہ سب کچھ کر سکیں گیں۔۔۔لیکن میں جانتا ہوں آپ ایسا نہیں کریں گیں اصوکوں پر سمجھوتا نہیں کریں گیں اور ہمیں یہ خواب ترک کرنا ہونگیں۔۔۔
اس ویڈیو کا مقصد مایوسی نہیں تلخ حقاہق بتانا ہے
شاہد کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں