افغانستان میں مسلسل دوسرا جمعہ ہے کہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا جس میں متعدد نمازی شہید ہوئے ہیں۔ دونوں بار شیعہ مکتب فکر کی مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغانستان میں صورت حال انتہائی گھمبیر ہے۔ کوئی ایسی مرکزی طاقت نہیں ہے جو عام شہریوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کر سکے۔

قندھار: نماز جمعہ کے دوران شیعہ برادری کی مسجد میں دھماکہ، کئی نمازیوں کے شہید ہونے کی اطلاعات

مرکز میں جس گروہ کو اقتدار ملا ہے شیعوں کے حقوق کی حفاظت کے حوالے سے اس کا ماضی انتہائی بھیانک ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی کئی ایسی خبریں ملیں کہ مرکز میں طاقت حاصل کرنے والے گروہ نے بعض شیعہ علاقے جبری طور پر خالی کروائے ہیں۔ طاقت کے اس خلا کے باعث دہشت گرد سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں جس سے افراتفری اور انتشار پھیل رہا ہے۔

دہشت گردی کی حالیہ لہر کے پیچھے کون ہے؟ اور اس کے محرکات کیا ہیں؟ وہ کیا اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے اس پر کافی بات ہوسکتی ہے لیکن ایک بات جو اس وقت کافی واضح ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان میں سامراجی طاقتوں کا نقشہ بری طرح ناکام ہوا ہے اور وہ پلان بی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ پلان بی میں افغانستان کی داخلی طاقتوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا کر گتھم گتھا کرنا اور ایک داخلی جنگ کا آغاز کرنا ہے۔ افغانستان میں متوقع داخلی جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی جس سے علاقائی امن مزید متاثر ہوگا اور نتیجتاً علاقائی تجارت بری طرح متاثر ہوگی۔

کابل میں طاقت حاصل کرنے والے نئے مرکزی گروہ کے اب تک کے اقدامات بتاتے ہیں داخلی اختلافات، عدم مہارت و صلاحیت اور سیاسی شعور کی کمی کیوجہ سے یہ گروہ افغانستان کو سنبھالنے اور افہام و تفہیم سے ایک نئے متفقہ نظام کے تحت ملک کو چلانے کی صلاحیت سے اس وقت تک قاصر ہے۔ طاقت کے حصول میں اس گروہ کی مدد کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ عام افغانستانی شہری کو اس تبدیلی سے کیا ملا ہے اور اس کا مستقبل کیا ہوگا؟۔ غیر یقینی کی صورتحال نے پورے افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
خدا افغانستان پر رحم کرے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں