پاکستان فارن آفس کی رکن صائمہ سلیم نے انڈین پروپیگنڈہ کا بہترین انداز میں جواب دیا ۔پہلے انڈین رکن نے بات کی اس کے بعد انھوں نے بھرپور جواب دیا اس ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ صائمہ آنکھوں کی نعمت سے محروم ہیں اور اس کے باوجود انگلیاں پھیر کر سامنے موجود ورق کے الفاظ بخوبی پڑھ رہی ہیں اور اگر آپ اس طرف غور نہ کریں تو شاید آپ کو محسوس بھی نہ ہو کہ وہ معذور ہیں ۔ یہ خدا کی ہی قدرت ہے کہ کیسے ایک سیکنڈ کے بھی سوویں حصے میں وہ الفاظ ان کی انگلی کے لمس سے دماغ تک پہنچ رہے ہیں اور پھر زبان سے ادا ہورہے ۔

جب یہ بول رہی تھی تو اس وقت آنکھ رکھنے والے ایران جوکہ چناروں کی سرزمین پر ہوئے تمام حقائق کو جانتے ہیں آنکھیں جھکائے نیچے زمین کو دیکھ رہے تھے اب میں کچھ لفافہ بلکہ میں ابھی لفافہ نہیں میں ان کو اب ہندوستان میں موٹی میڈیا ہے انہیں گودی میڈیا کا خطاب دیتا ہوں یہ لوگ ان کے دوپٹے پر اعتراض کرنے لگے ان کی آنکھیں نہیں اس بیٹی کی بہن کی لیکن یہ آنکھ رکھنے والے شرم نہیں رکھ سکے اور ان کے دوپٹے پر انہوں نے اعتراض کیا کیونکہ اب گودی میڈیا کے پاس اعتراضات اور جوابات ختم ہوگی تو انہیں اور کچھ نہیں ملا اور جن لوگوں نے اعتراض کیا اگر آپ ان کی پروفائل پر جاکر ان کی اپنی حالت دیکھی تو آپ استغفراللہ کا ورد ضرور کریں گے یہ گودی میڈیا کے لوگ اس مکھی کی مانند ہیں جس سے سب طرف صفائی ستھرائی ہونے کے باوجود کوئی ایک چھوٹا سا گندگی کا ٹکڑا نظر آئے تو یہ اس پر جا کر بیٹھ جاتی ہیں کیونکہ یہ ان کی آنکھیں ہیں یہ گندگی ہوتی رہتی ہیں مارا اس بیٹی بہن کو بہت سلام اس کی جرات کو اور سب سے بڑھ کر میں آپ کو تبدیلی کا اگر بتاؤ تم ماضی میں اسی حال میں محترم نواز شریف صاحب اپنے اہل خانہ اپنی مرحومہ زوجہ علان جنت نصیب کرے اپنی نواسیوں نواسوں سمیت پورا خاندان اقوام متحدہ کا یہ حال دیکھنے پھر اصحاب کو ان کی والدہ کو ساڑھیاں بھیجنے کام بھیجنے اور اپنی عرب شہزادوں کے ساتھ خاندانی رشتہ داریاں قریبی دوست یا پانی کے سوا عوام متحدہ کے اجلاس میں کچھ نہیں کرتے تھے اب پاکستان کا دنیا کو مفت کم از کم دلیری بہادری جرات سے نظر آتا ہے دو اہم باتیں آج میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو بہت زیادہ کی جارہی ہیں ایک عمران خان کے توشہ خانے کے حوالے سے تحائف اور دوسرا نواز شریف صاحب کی نقلیں جو سرٹیفکیٹ بھی بنا

وزیراعظم عمران خان صاحب کو بلی کی خواتین کو تین سو تک سونا نکالنے کا الزام لگا دیا گیا سب سے پہلے تو یہ توشہ خانہ اعظم ہاؤس میں ایک ادارہ ہے جسے کیبنٹ سیکرٹری کنٹرول کرتا ہے جو صدر یا وزیراعظم وزیر خارجہ یا دیگر وزراء دورہ کریں تو انہیں بیرون ملک سے ملتے ہیں قانون کہتا ہے کہ یہ توشہ خانہ میں جمع کروائیں کسی کا ذاتی نہیں کہ وہ گھر اٹھا کر لے جائیں ماضی میں اس قانون میں اپنی مرضی کی ترمیم کرکے اپنے والد صاحب کی جاگیر سمجھ کر اسے گھر لے جایا جاتا تھا توڑ دیا جو جمع ہونا ہے وہ پچاس لاکھ جمع ہوتا تھا نواز شریف صاحب نے آصف زرداری کو گاڑی گفٹ کردی یوسف رضا گیلانی سیلاب زدگان کو ملنے والی امداد کا ہار اپنی بیٹی کو دے دیتے ہیں اب یہ جو انفارمیشن ایکٹ ہے رائٹ ٹو انفارمیشن جس کے مطابق ہر شہری کے پاس یہ حق ہے کہ وہ معلومات حاصل کرسکے اور مزے کی بات ہے یہ بھی اسی حکومت نے یہ حق شہریوں کو دیا ہے کہ ان کے پاس یہ معلومات ہو حکومت کا موقف کہ یہ معلومات جاری نہیں کی جا سکتی کیونکہ مختلف ممالک سے ہمارے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں شہری کا یہ حق سوفیصد معلومات ملنا چاہیے یہاں پر تھوڑی سی اگر اس میں طوسی کی جائے بوئے کے توشہ خانہ کے تحائف میں سے عمران خان کتنے تحائف اپنے پاس لے کر گئے یا اپنے اہلخانہ کو انہوں نے انتہائی میں سے کچھ دیا یہ معلومات ضرور ملنا چاہیے لیکن یہ کس ملک نے کیا دیا پاکستان کو یہ میرے خیال میں اتنا اہم نہیں ہمارے لئے ضروری یہ ہے کہ کیا وزیراعظم پاکستان توشہ خانے کا کوئی تحفہ اپنے گھر لے گئی اگر ایسا ہے تو یہ بالکل پتہ لگنا چاہیے کیا وزیراعظم نے قانون کے مطابق ان تحائف کی قیمت ادا کی یہ پورن پبلک کر دینا چاہیے سونا فی تولہ اس وقت گیارہ ہزار آٹھ سو روپے کے قریب ہیں یہ تقریبا چالیس پچاس لاکھ روپے کے قریب سونا بنتا ہے جس کا الزام ہے میں یہ نہیں مان سکتا کہ اعظم یا ان کا خاندان صرف 40 لاکھ روپے کے عوض اپنے اوپر کوئی ایسا الزام کا چھٹا برداشت کریں اس لیے یہ بالکل بے ہودہ بات ہے امتحانات میں یقینا کچھ ایسی چیزیں شامل ہیں جو پبلک کرنا اس وقت ان ممالک سے تعلقات کے لیے خرابی کا باعث بن سکتی ہیں ورنہ وزیراعظم اگر آج اعلان کردیں کہ مجھے چالیس لاکھ روپے چاہیے تمہیں یقین دلاتا ہوں اندھے لوگ چار عرب بھی دے دیں گے

لیکن ٹرانسپیرنسی کے لیے یہ میری ذاتی رائے ہے کہ وزیراعظم کو یہ سب ڈکلیئر کرنا چاہیے اور اس کے بعد یہ قانون بنانا چاہیے کہ پاکستان کا کوئی صدر وزیر اعظم یا وزیر خارجہ قسم کا کوئی تحفہ جو پاکستان کو ملے اس سے نہیں حاصل کر سکتا ہے وہ صرف اور صرف حکومت پاکستان کا حق ہے دنیا بھر میں آپ ایک کافی بھی نہیں سکتے اگر آپ سرکاری نوکری پر ہو یہاں 15 فیصد پانچ فیصد دے کر کروڑوں اربوں کی گاڑیاں, گھڑی بانٹ لی جاتی تھی

دوسرا ہم پہلو جو کہ نواز شریف کا نقلی سرٹیفکیٹ کرکٹ جس طرح ان لوگوں نے نواز شریف کی جھوٹی رپورٹ بنائی اور پھر خود میڈیا کو یہ رپورٹ بھیجیں یہ چیز ثابت کرتی ہے کی گئی صرف اور صرف ان کی اس سارے عمل کو ڈس کریڈٹ کرنا چاہتے تھے یہ ایک تیار شدہ پلان تھا نوازشریف کی شناختی کارڈ کی کاپی خواجہ سعد اسپتال کے ڈاٹ انٹری سٹاف وقار الحسن نون کے ان کے پاس پہنچی پھر ایم پی اے شہباز چوہدری نون لیگ کے لاہور کے جنرل سیکٹری خواجہ عمران نذیر قرآن مسلسل ٹیلی فون کرتے رہے اور ان کی تمام کالز کا ڈیٹا بازگل نے نکال لیا اسپتال میں کام کرنے والا شخص کا دل رفیق 2015 سے اسپتال میں کام کر رہا ہے پاکستان مسلم لیگ نون کا ایک بڑا اہم ورکر ہے تصاویر بھی خواجہ عمران نذیر کے ساتھ موجود ہیں اب ان لوگوں کا یہ عمل کرنے کا مقصد یہی تھا کیونکہ اس کے فورا بعد ہی میڈیا رپورٹس کے مریم نواز اپنے ٹویٹر پر آجاتی ہیں پاکستان کی نادرا پر حملہ کرتی ہیں حالانکہ سب سے پہلے تو یہ سوال انہی سے بنتا ہے کہ اگر نعت شریف جو کہ مکمل طور پر ماشاءاللہ صحت مند ہیں ان کی یہ ساری رپورٹس کیسے بنیں رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف صاحب کو 87 بیماریاں موجود ہیں اب آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ میاں نواز شریف صاحب کو کیا سکتا سی بیماریاں ہو سکتی ہیں جس میں چھوٹے بڑے دس سے پندرہ ہارٹ اٹیک بھی شامل ہیں دنیا کی میڈیکل سائنس بھی حیران ہے وہ ایک چلتا پھرتا معجزہ ہے اس وقت لیکن کاغذات کے مطابق اگر وہ سارے کاغذات بن سکتے ہیں تو ایک جھوٹی رپورٹ ان کے لئے بنانا کیا ناممکن ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی جھوٹی سکینڈل سے دنیا بھر میں نیو کی ڈگریوں ان کے تجربے اس کی تعلیم ان تمام چیزوں پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور پھر یہ لوگ مسائل کا شکار ہوتے ہیں نہ تو نوازشریف نے آگے بڑھنا ہے نہ ہی ان کے خاندان کے کسی لوگوں نے عام اداروں میں پڑھنا ہے ان کے لیے تو اصلی نقلی کا فرق ہے ہی نہیں لیکن عام پاکستانی دنیا بھر میں کوٹ سمیت ان تمام مسائل کا شکار ہو جاتا ہے

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں