اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائبر کرائم قوانین کی آڑ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اختیارات کے بے جا استعمال کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔
بدھ کو سماعت میں ہائیکورٹ نے سکیورٹی کے محکموں کو مبینہ طور پر بدنام کرنے پر صحافی اور بلاگر اسد علی طور کو جاری کیا گیا ایف آئی اے کا نوٹس معطل کیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکٹرانک جرائم کے انسداد کے قانون (پیکا ایکٹ) کے تحت ایف آئی اے ایسا نوٹس جاری نہیں کر سکتی، صرف متاثرہ شخص ہی شکایت کر سکتا ہے۔
جسٹس من اللہ نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت جس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے وہی متاثرہ شخص شکایت کر سکتا ہے کوئی تھرڈ پارٹی نہیں۔
چیف جسٹس نے نجی ٹی وی کی مارننگ شو کی میزبان شفا یوسفزئی کی شکایت پر ایف آئی اے کو انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پٹیشنر کو سمن کرنے کا ایف آئی اے کا کال اپ نوٹس معطل کیا تھا، انکوائری سے نہیں روکا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے شکایت ملنے پر ابتدائی انکوائری کے بعد پہلے تسلی کرے کہ کیس بنتا بھی ہے یا نہیں،
ایف آئی اے کا کام ہے کہ انکوائری کی فائنڈنگز کے ساتھ نوٹس کر کے جواب طلب یا سمن کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کو اس عدالت کے فیصلوں کا بھی احترام نہیں، ایف آئی اے کا نوٹس دوسرے کو ملزم بنا دیتا ہے۔
ایف آئی اے کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ سائبر کرائم قانون کے تحت متاثرہ شخص متعلقہ اتھارٹی کو سوشل میڈیا مواد بلاک کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔
جسٹس من اللہ نے کہا کہ یہ قانون تب حرکت میں آئے گا جب متاثرہ شخص خود شکایت کرے، کئی کیس آئے جہاں کسی تیسرے شخص کی شکایت پر کارروائی کی گئی، کیا آپ نے اسد طور کیس میں پہلے شکایت کنندہ کی شکایت کا جائزہ لیا؟
عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا آپ نے دیکھا کہ شکایت کنندہ کی شکایت درست ہے؟۔
اسد طور کے خلاف شکایت کنندہ شفا یوسفزئی وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ شفا کی شکایت پر ایف آئی اے نے کارروائی ہی روک رکھی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے ان کو آپ کی شکایت پر کارروائی سے نہیں روکا۔ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ دوسروں کا احترام نہیں، دوسروں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں۔
چیف جسٹس نے تفتیشی افسر سے کہا کہ آپ کے پاس ایک پاور ہے جسے آپ نے قانون کے مطابق استعمال کرنا ہے.
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک شہری نے ماحولیاتی آلودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تو ایف آئی اے نے اسے بھی نوٹس کر دیا، ایف آئی کو نوٹس میں لکھنا چاہیے کہ شکایت کنندہ کون ہے؟ اور شکایت کیا آئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کےتفتیشی افسر کو شفاف انداز میں تفتیش کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 30 جون تک ملتوی کر دی۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں