سینیئر صحافی اور کمیونسٹ پارٹی کے سابق رکن وارث رضا کو نامعلوم افراد کی جانب سے لاپتہ کیے جانے 14 گھنٹے بعد واپس گھر پہنچ گئے ہیں.
جبری گمشدگی کے اس واقعے کے خلاف کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے.
کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے جمعرات کی صبح نو بجےاحتجاج کیا جائے گا.
خاندان کا دعویٰ ہے کہ وارث رضا کو ان کی ’جمہوریت کی حمایت اور ہائبرڈ نظام کی مخالفت‘ کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔
وارث رضا نے پاکستان میں صحافیوں کی اظہار رائے کی آزادی کے لیے 70 سالہ جدوجہد کی تاریخ قلمبند کی ہے.
وارث رضا ان دنوں اردو روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ ہیں۔ وہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ رکن اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کے منصب پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔
وارث رضا کی بیٹی اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کی سیکریٹری اطلاعات ام لیلیٰ رضا کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ان کے والد اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے گلشن اقبال کے بلاک فور اے سے ان کو حراست میں لیا گیا.
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین، سینیئر صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے وارث رضا کے لیے آواز اٹھائی اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا.

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں